صنفی امتیاز ختم، آئی سی سی نے خواتین کرکٹرز کیلئے انعامی رقم مردوں کے برابر کر دی

87

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے صنفی امتیاز ختم کرتے ہوئے مرد اور خواتین کے آئی سی سی ایونٹس کے لیے یکساں انعامی رقم کا اعلان کر دیا-

مرد اور خواتین کے لیے یکساں انعامی رقم طے کرنے کا فیصلہ جمعرات کو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں آئی سی سی سالانہ کانفرنس میں لیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹیموں کو اب تمام ایونٹس میں پوزیشن کے حساب سے یکساں انعامی رقم ملے گی۔ اس کے علاوہ تمام ایونٹس ہر میچ جیتنے پر ملنے والی رقم بھی برابر ہوگی۔

اس حوالے سے آئی سی سی کے چیئرمین گریگ بارکلے کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمارے کھیل کی تاریخ کا بڑا لمحہ ہے اور میں خوش ہوں کہ اب مرد اور خواتین کرکٹرز کو آئی سی سی ایونٹس میں انعام بھی برابر کا ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’2017 سے ہم برابر انعامی رقم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور خواتین کے ایونٹس میں انعامی رقم ہر سال بڑھاتے آئے ہیں، اور اب سے آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے پر اتنی ہی انعامی رقم ملے گی جو مینز کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے پر ہوگی۔ ایسا ٹی ٹوئنٹی اور انڈر نائنٹین ورلڈ کپ میں بھی ہوگا۔‘

یاد رہے کہ 2020 اور 2023 کے آئی سی سی ویمن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جیتنے والی ٹیم کو دس لاکھ ڈالرز اور فائنل ہارنے والی ٹیم کو پانچ لاکھ ڈالر دیے گئے تھے جو کہ 2018 میں ملنے والی انعامی رقم سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

اسی طرح 2022 کے ویمن ورلڈ کپ کی انعامی رقم 35 لاکھ ڈالر تھی جبکہ 2017 کے اسی ایونٹ کو جیتنے والی ٹیم کو 20 لاکھ ڈالر دیے گئے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.