سائنسدانوں نے رائفل کی لمبی گولی جیسی مچھلی دریافت کر لی

234

برکلے، کیلیفورنیا: سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں ایک نایاب مچھلی دیکھی ہے جو دیکھنے میں رائفل کی لمبی گولی یا سگار دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نایاب ترین ڈریگن فِش ہے جو ایک طویل عرصے بعد دکھائی دی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ الف کے حرفِ تہجی کی مانند سیدھی تیرتی ہے جس کا حیاتیاتی نام ’بیتھوفائلس فلیمنگائی‘ ہے۔ لگ بھگ 30 سالہ تحقیق اور 27600 گھنٹے کی ویڈیو میں یہ صرف چار مرتبہ دیکھی گئی ہے اور حال ہی میں کیلیفورنیا کے پاس مونٹیری بے میں دکھائی دی ہے۔ اس بار ماہرین نے 1000 فٹ کی گہرائی میں  ڈریگن فِش کی خوبصورت اور واضح ویڈیو لی ہے جبکہ یہ اس سے بھی گہرائی میں ہی رہنا پسند کرتی ہے۔

ویڈیو میں یہ بہترین تیراک معلوم ہوتی ہے لیکن شکار کے لیے بہت دیر تک تاریکی میں چھپ کر خاموش بھی  بیٹھی رہتی ہے۔ اس کے جسم پر دھاتی کانسی رنگت کے چھلکے ہیں، جو چمکتے ہوئے سنہرے لگتے ہیں۔ خود سے چھوٹی مچھلیوں کو یہ اپنے تیزدانتوں میں چباکر انہیں کھاجاتی ہے۔

ڈریگن فش کی دیگر اجسام بھی ہیں ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ روشن ہیں جو کھانے کی تلاش میں کسی سرچ لائٹ کا کام کرتی ہیں۔ دوسری قسم کی ڈریگن فش کی ٹھوڑی پر روشنی خارج کرنے والی باریک تیلیاں ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر خود شکار کھنچا چلاآتا ہے۔

لیکن ان میں سے کانسی رنگت کی ڈریگن فش کی لمبائی 16 سینٹی میٹر تک ہوسکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے دیکھنا بھی محال ہوتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.