روس آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی کے میدان میں باقی دنیا سے پیچھے رہ سکتا ہے

232

انسٹاسیا میرولوبووا کا کاروبار ان دنوں زبردست چل رہا ہے۔ وہ امیگرام نامی ایک پلیٹ فارم کی شریک بانی ہیں، جو ٹیکنالوجی سے متعلق ماہرین و ملازمین کو برطانیہ جانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ان کے پلیٹ فارم پر ویب ٹریفک میں 1,000 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سال کی پہلی سہ ماہی میں سائن اپ کرنے والے کلائنٹس کی تعداد 2021 میں ان کی سالانہ کل تعداد کے برابر تھی۔ زیادہ تر نئے صارفین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین ہیں، جو روس اور یوکرین سے باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 اٹھائیس سالہ روسی شہری میرولوبووا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کاروبار بڑھ رہا ہے لیکن یہ بہت افسوسناک ہے۔‘‘

لاکھوں یوکرینی اپنے ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔ روس سے بھی ہزارہا تکنیکی کارکنوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ملک چھوڑ چکے ہیں کیونکہ مغربی پابندیوں نے صنعتوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ روسی ایسوسی ایشن برائے الیکٹرانک کمیونیکیشنز (RAEK) کے مطابق فروری اور مارچ میں قریب 70,000 آئی ٹی ماہرین روس سے فرار ہوئے۔ انڈسٹری گروپ نے پیش گوئی کی ہے کہ اپریل میں مزید 100,000 ماہرین ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

جب سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے روس میں ٹیکنالوجی سیکٹر سے منسلک ورکرز اور کمپنیوں کو اپنی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ، یورپی یونین اور نیٹو سے منسلک دیگر ممالک کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں ہیں۔ پابندیوں کے سبب سیمی کنڈکٹرز جیسی اہم اشیا تک رسائی رک گئی ہے۔

ٹیکنالوجی سیکٹر پر پابندیوں کا مقصد روس کی فوج کو کمزور کرنا بھی ہے۔ برسلز میں قائم تھنک ٹینک بروگل کے تجارتی اور ڈیجیٹل اکانومی کے ماہر نکلاس پوٹیئرز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اگر آپ نئے ٹینک بنانا چاہتے ہیں، تو آپ کو مائیکرو چپس کی ضرورت ہے۔ اگر آپ میزائل بنانا چاہتے ہیں تو وہاں بھی چپس درکار ہوں گی۔ روس ایسی چپس نہیں بناتا جو کسی بھی طرح سے مسابقتی ہوں۔ اگر آپ بین الاقوامی سپلائی چین سے کٹ جاتے ہیں تو آپ کی زندگی بہت زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔‘‘

سرکاری پابندیوں کے علاوہ گوگل، ایپل، سام سنگ، مائیکرو سافٹ، ایس اے پی اور میٹا ان درجنوں بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں میں شامل ہیں جنہوں نے یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں رضاکارانہ طور پر روس میں اپنے کاروبار کو محدود یا معطل کر دیا ہے۔ جرمنی کی فیڈرل انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی ٹیک کمپنی ایپل نے روس میں اپنی ادائیگی کی سروس ایپل پے کو بلاک کر دیا ہے اور وہاں نئی ​​مصنوعات کی فروخت پر خود سے عائد پابندی کا مطلب ہے کہ ملک میں جون کے اوائل میں ایپل اور سام سنگ دونوں سمارٹ فونز ختم ہو سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.