حیدرآباد سمیت اندرون سندھ شدید گرمی کی لپیٹ  میں

272

حیدرآباد سمیت اندرون سندھ شدید گرمی کی لپیٹ ہے۔ جبکہ آلودہ پانی کے استعمال سے پیٹ کے امراض پھوٹ پڑے، اسہال پیچش اور ہیضے کے مریضوں سے اسپتال بھرگئے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 ہزار کیسز سامنے آگئے۔

حیدرآباد سمیت اندرون سندھ ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے ایک جانب شہری شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کی اذیت سے دوچار ہیں تو دوسری جانب شدید گرمی کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں اور آلودہ پانی کے استعمال سے پیٹ کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ماہرین کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال، مضر صحت کھانا، گلے سڑے پھل اور صحت وصفائِی کا خیال نہ رکھنے کے باعث اسہال پیٹ میں مروڑ اور آنتوں میں سوزش کی مریضوں کی تعداد مں اضافہ ہورہا ہے۔

صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حیدر آباد میرپورخاص لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن سمیت سندھ بھر میں چھ ہزار سے زائد مریض سرکاری اسپتالوں میں لائے گئے۔

ان میں پانچ سال کی عمر کے2700 بچے بھی شامل ہیں، محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں اب تک اسہال اور پیچش کے دو لاکھ سے زائد مریض اسپتالوں میں لائے گئے۔

ماہرہن طب کا کہنا ہے کہ گرمی کے دوران بیکٹیریا اور مختلف وائرس کا متحرک ہونا پیٹ کے امراض کا بڑا سبب ہے، گرمی میں صفائِی ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوِئے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے پیٹ کے موذی امراض سے بچا جاسکتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.