اگلے سال کے لیے بجٹ کا حجم 9 ہزار 500 ارب کے قریب ہو گا 

216

حکومت نے بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دے دی، اگلے سال کے لیے بجٹ کا حجم 9 ہزار 500 ارب کے قریب ہو گا اور شرح نمو 5 فیصد رکھی جائے گی جو رواں سال 6 فیصد رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم سے مشاورت کا سلسلہ اگلے دو دن جاری رہے گا، قابل ٹیکس آمدن کی حد طے کرنے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے سے متعلق معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

قرض اور قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے 21 ارب ڈالر مختص کیے جا رہے ہیں، بیرونی قرض کی ادائیگی کے لیے 3500 ارب جبکہ مقامی قرض کی ادائیگی کے لئے 700 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اگلے مالی سال کے دوران مختلف ذرائع سے 4600 ارب قرض لے گی جبکہ سبسڈی کی مد میں 650 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے، پنشن کی ادائیگی کے لئے 530 ارب اور سول حکومت چلانے کے لئے 550 ارب مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 800 ارب روپے ہو گا، جس میں 100 ارب روپے پرائیوٹ، پبلک پارٹنر شپ کا پروگرام ہے، اگلے سال کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 5 فیصد سے کم تجویز کیا جا رہا ہے جو 3800 ارب روپے کے برابر بنتا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ آئندہ مالی سال 41 ارب ڈالر کے فنڈز کی ضرورت ہو گی، 21 ارب ملکی و غیر ملکی قرض کی ادائیگی کیلئے، 12 ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے، 8 ارب ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے درکار ہوں گے۔

ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7 ہزار 255 ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے، نان ٹیکس ریونیو وصولی کا ہدف 2 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ رکھا جا رہا ہے، مجموعی طور پر آمدن 9 ہزار ارب روپے تجویز کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاق کو کل آمدن سے 4900 ارب روپے اور صوبوں کو گرانٹس اور این ایف سی پول سے 4100 ارب روپے منتقل کئے جائیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.