امریکا اچانک چین کے ساتھ مذاکرات پر کیوں راضی ہو گیا؟

47


بیجنگ: تائیوان کے مسئلے پر ہونے والی کشیدگی اور تناؤ کے بعد امریکا اور چین کے درمیان تعلقات بحال ہونا شروع ہوگئے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے نمائندۂ خصوصی جان کیری چین پہنچ گئے جہاں وہ اپنے ہم منصب شی زنہوا سے ملاقات کریں اور موسمیاتی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

یہ مذاکرات گزشتہ برس اس وقت تعطل شکار ہوگئے تھے جب امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے چین کی ناراضی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تائیوان کا دورہ کیا تھا۔

تاہم جان کیری جو اس وقت امریکی صدر کے مشیر برائے آب وہوا اور سابق وزیر خارجہ بھی ہیں نے کشیدگی، تناؤ اور بے پناہ مسائل کے باوجود چین کو موسمیاتی تبدیلی پر مذاکرات کے لیے آمادہ کرلیا۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق امریکا اور چین کے موسمیاتی مذاکرات کا دوبارہ آغاز عالمی سطح پر ریکارڈ کے گرم ترین ہفتے کے دوران ہوگا۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے نومبر میں اقوام متحدہ کے موسمیاتی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جان کیری کا مقصد COP28 کو فروغ دینا اور اس حوالے سے چین سے مذاکرات کرنا ہے۔

یاد رہے کہ تقریباً 200 ممالک متحدہ عرب امارات میں COP28 کے لیے اکٹھے ہوں گے تاکہ گلوبل وارمنگ اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے طریقے تلاش کریں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کو چلانے والے گرین ہاؤس گیسوں کے سرکردہ پروڈیوسر کے طور پر چین نے 2030 تک کاربن کے اخراج کو عروج پر پہنچانے اور 2060 تک مکمل کاربن غیر جانبداری حاصل کرنے کا عہد کیا ہے۔

واضح رہے کہ جان کیری چین کا دورہ کرنے والے تیسرے بڑے امریکی نمائندے ہیں اس سے قبل وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیر خزانہ جینٹ ییلن بھی دورہ کرچکے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مستحکم ہوں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.