الیکشن ایکٹ میں 200 سے زائد ترامیم، وزارت قانون نے سر پکڑ لیا

84

 اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے انتخابی اصلاحات کا مسودہ تیار کرلیا، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے انتخابی اصلاحات کی متعدد شقوں پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

 انتخابی اصلاحات کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ اجلاس میں ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی نے انتخابی اصلاحات کے مسودے میں شامل متعدد شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔

ایم کیو ایم نے کراچی کی حلقہ بندیوں پر اعتراضات اٹھائے کراچی کی پرانی مردم شماری و حلقہ بندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ریٹرننگ افسران کو مزید بااختیار بنانے اور نتائج کی تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا کہ آر ٹی ایس سسٹم کو موثر، ریٹرننگ آفیسر کو اکاونٹیبل بنایا جائے۔ علاوہ ازیں پارلیمانی کمیٹی میں الیکشن اصلاحات بارے مزید ترامیم شامل کر دی گئیں۔

الیکشن ایکٹ میں بڑھنے پیمانے پر ترامیم ،وزارت قانون نے سر پکڑ لیا اور محدود وقت میں بڑے پیمانے پر قانون سازی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو 28 جولائی تک قانون سازی مکمل کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

وزارت قانون نے مؤقف دیا کہ انتخابی اصلاحات میں 200 سے زائد ترامیم کو قانونی شکل دینا آسان نہیں، ترامیم فائنل ہونے پر قانونی شکل دینے میں وقت بھی درکار ہے۔

قائمہ کمیٹی نے سینیٹ ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لئے قانونی تبدیل کرنے پر اتفاق کیا، جس کے مطابق نشست کیلیے تعلیمی قابلیت کے علاوہ بیس سال کا تجربہ بھی درکار ہوگا۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پولنگ ڈےسے 5روز قبل پولنگ اسٹیشن تبدیل نہیں کیاجاسکے گا،  انتخابی اخراجات کے لئے امیدوار پہلے سے زیر استعمال بینک اکاؤنٹ استعمال کرسکیں گے۔

ذرائع کے مطابق امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اور قوائد و ضوابط سے متعلق ایجنڈا کل تک مؤخر کردیا گیا۔

پارلیمانی کمیٹی نے وزارت قانون کو  الیکشن ایکٹ کے ترمیمی مسودہ کو کل تک حتمی شکل دینے کی ہدایت دی جبکہ وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کل کے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.