اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سکینڈل:طارق بشیرچیمہ کا بیٹا بھی منشیات کی فروخت میں شامل، حساس اداروں کی رپورٹ

111


بہاولپور : اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سکینڈل کے حوالے سے حساس اداروں کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی،وفاقی وزیرطارق بشیرچیمہ کےبیٹے کی کارستانیاں بھی سامنے آگئیں۔


میڈیا رپورٹ کے مطابق بہاولپور یونیورسٹی کیس میں مزید حقائق سامنے آرہے ہیں۔حساس اداروں کی تحقیقاتی رپورٹ بھی سامنے آ چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق طارق بشیر چیمہ کے بیٹے ولی داد کےدوست آئس سمگلر احسان جٹ کے نیٹ ورک کی کارستانی سامنے آگئی ۔


احسان جٹ کی تقریبا ًسات سال پہلے ولی داد سے دوستی ہوئی، ولی داد کی مدد سے احسان جٹ نے کچھ خواتین کو منشیات گینگ میں شامل کیا۔ان خواتین میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی خواتین شامل ہیں۔مذکورہ خواتین خود بھی آئس کا نشہ کرتی ہیں اور طالبات کو بھی نشہ فراہم کرتی ہیں-

۔احسان جٹ نے مالی طور پر مستحکم ہونے کے بعد آئس کی سپلائی یونیورسٹی اور بہاولپور شہر میں بھی شروع کی۔


رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ احسان جٹ کی سرپرستی میں آئس مقامی طور پر تیار ہونا شروع ہوئی۔احسان جٹ نہ صرف پولیس بلکہ سپیشل برانچ اور آئی بی کے لوگوں کو بھی منتھلی بھیجتا تھا۔مذکورہ منشیات گینگ کی دو سال پہلے بھی انکوائری حساس ادارے کی جانب سے کی جا چکی ہے۔


خیال رہے کہ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ میرے بیٹے میں ایسا کوئی عیب ثابت ہو جائے میں خود اسے گھر سے نکال دوں گا، سیاسی مخالفین مجھے اسلامیہ یونیورسٹی کے معاملے میں شامل کر رہے ہیں۔


طارق بشیر چیمہ نے اپنے بیٹے ولی داد چیمہ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی کے معاملات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئےوزیراعلیٰ کو درخواست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے کے ساتھ ہر انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہوں، یونیورسٹی سے متعلق میرے خلاف کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائے۔

طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یونیورسٹی کے معاملات کا نوٹس نہ لیا جاتا تو بات اس سے بھی آگے جا سکتی تھی، سیاسی مخالفین نے پگڑی اچھالنےکیلئے ایسا گھناؤنا کھیل کھیلا ہے، میری پگڑی اچھالنے والوں پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جا رہا ہے۔


وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ باقی سب کو بھی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہونا چاہیے، احسان جٹ کیس کو مجھ سے منسوب کیا جا رہا ہے، اسے
بہاولپور چھوڑے ڈھائی سال ہو چکے، احسان جٹ کسی جرم میں پکڑا گیا ہے تو اسے ہمارے ساتھ کیوں منسوب کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی میں ہونے والا ایکشن غلط نہیں ہوا، یہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا، غلط بات کا آخر تک پیچھا کرتا ہوں، اس طرح کی یونیورسٹی دوبارہ نہیں بننی، ڈی پی او سے قسم لے لیں کہ میں نے اس معاملے میں ایک بار بھی اسے کال کی ہو۔طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ یونیورسٹی کے معاملے میں جس کا جو قصور ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.