آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم پر ازخود نوٹس لیں، اعتزاز احسن کی چیف جسٹس سے استدعا

84

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت   کے دوران درخواست گزار وکیل اور ماہر قانون اعتزاز  احسن نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترمیم پر ازخود نوٹس لینے کی استدعا کردی۔

سپریم کورٹ میں اعتزاز احسن کی استدعا پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ابھی اخبار میں ہی اس قانون کے بارے میں پڑھا ہے، دیکھتے ہیں پارلیمنٹ کے باقی دونوں دھڑے اس بل پرکیسا ردعمل دیتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ چیف جسٹس اپنی صوابدید پر ازخود نوٹس نہیں لے سکتا اس پر  اعتزاز احسن نے تجویز دی کہ آپ اپنے باقی ججزسے مشاورت کرلیں جس پر  چیف جسٹس نے جواب دیا آپ کا بہت شکریہ۔

اس دوران اٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا کہ وہ متوازی عدالتی نظام کے مدعے پر دلائل دیں گے، ان افراد کوآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 2 ڈی ون کے تحت چارج کیاگیا ہے۔

 جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالتی نظائرکو دیکھا جائے تو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات گرفتار افراد پرنہیں لگتیں، بنیادی انسانی حقوق کو ریاست چاہے بھی تو نظرانداز نہیں کرسکتی، آئینی بنیادی حقوق کی فراہمی کو قانون سازوں کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑا جاسکتا، یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک اسمبلی آکربنیادی حقوق سے منافی قوانین بنائے اگلی آکربدل دے۔

اعتزاز احسن نے دلائل کے دوران کہا کہ ان کی حکومت 12 اگست کو جا رہی ہے، اٹارنی جنرل جاتی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے کیسے یقین دہانی کراسکتے ہیں؟ یہ 102 افراد کے لیے خصوصی سہولیات دی گئی ہیں، یہ کوئی لاڈلے افراد ہیں؟ باقی تمام شہریوں کا کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے جب ملٹری کورٹس سیٹ اپ کیے تو آئینی ترمیم کی تھی، ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن کا حق دینا کوئی حیثیت نہیں رکھتا، جب پہلے آرمی چیف اپیل سن چکا ہو توپھر ہائیکورٹ میں جانے کا کیا فائدہ ہوگا، ملٹری کورٹ کے فیصلے کے بعد اپیل سے کچھ نہیں ملنا، آرام سے مان جاتے کہ 14 مئی کو انتخابات کرادیتےتو آج مردم شماری والے مسائل نہ ہوتے، اسمبلیاں خالی ہیں صدر کا انتخاب نہیں کراسکتے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت کے اپنے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں، ہر چیز میں عدالت میں آنا پڑے گا، مردم شماری کا معاملہ اب آپ کے پاس آنا ہے، ان کو ایک 2 گھنٹے ہدایات لینے کو دیں اوراس کیس کا فیصلہ آج ہی کریں، وقت تیزی سے چل رہا ہےاور’باقی افراد‘ کوبھی گھڑی کی ٹک ٹک محسوس ہورہی ہے، اس عدالت پر بہت بھاری آئینی ذمہ داری آن پڑی ہے، آج بھی سماعت کو شام میں مقرر کریں، ججز اپنی چھٹیاں منسوخ کردیں، یہ اسمبلی جاتے جاتے قانون سازی پر قانون سازی کررہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.